اسمبلی کی کاروائی
اسمبلی کے پہلے دن کی کاروائی
- ممبران کی حلف برداری:
عام انتخاب کے بعد اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوتا ہے جس میں منتخب ممبران کی حلف برداری عمل میں آتی ہے جبکہ وہ ممبران جو اپنی غیر حاضری کی بناء پر اس روز حلف نہ اٹھاسکے ہوں وہ اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پہلی بار شریک ہونے پر حلف اٹھاتے ہیںـ - اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب اور حلف برداری:
ممبران کی حلف برداری کے ساتھ، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ممبران میں سے کیا جاتا ہےـ اسپیکر اور ڈپٹی کا عہدہ خالی ہوجانے کی صورت میں اسمبلی حاضر ممبران میں سے کسی ایک کو اپنا اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر منتخب کرتی ہےـ - اجلاس کی طلبی:
صوبے کا گورنر صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے کا خصوصی اختیار رکھتا ہے وہ چاہے تو اجلاس کو ملتوی یا بر خاست بھی کر سکتا ہےـ اسپیکر کو بھی یہ اختیار ہے کہ وہ اسمبلی کے کم از کم ایک چوتھائی ممبران کی طرف سے دی جانے والی تحریری درخواست پر 14 دن کی مدت کے اندر اسمبلی کا اجلاس بلاسکتا ہےـ
ایک سال کی مدت کے لیے اجلاسوں کی اور دنوں کی تعداد:
یہ وضاحت موجود ہے کہ ہر سال صوبائی اسمبلی کے کم از کم تین اجلاس ہونے ضروری ہیں اور اسمبلی کے اجلاس کی آخری نشت اور آئندہ نشت میں 120 دن سے زیادہ کا وقفہ نہیں ہونا چاہیےـ صوبائی اسمبلی کے لیے ضروری ہے کہ وہ سال میں کم از کم 70 دن کام کرے
صوبائی اسمبلی کی میعاد:
پاکستان میں اسمبلیاں 5 سال کی مدت پوری کرتی ہے اگر انہیں پہلے ہی تحلیل نہ کردیا جائے-
صوبائی اسمبلی کی تحلیل
- وزیر اعلی کی ہدایت پر اسمبلی کی تحلیل:
وزیراعلی کی ہدایت پر گورنر اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اختیار رکھتا ہےـ لہزا وزیراعلی کی ہدایت پر صوبائی اسمبلی 48 گھنٹوں کے اندر تحلیل ہوجاتی ہےـ - صدر پاکستان کی ہدایت پر:
گورنر صدر پاکستان کی ہدایت پر بھی اسمبلی تحلیل کر سکتا ہے- یہ کاروائی اس وقت عمل میں آتی ہیں کہ جب گورنر کی رائے میں وزیراعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوجانے کے بعد اسمبلی کا کوئی اور ممبر صرف سادہ اکثریت سے دیگر ممبران کی حمایت حاصل نہ کرسکتا ہوـ
انضباط کاروائی
عام انتخاب کے بعد اسمبلی کا پہلا اجلاس منعقد ہوتا ہے اور اسمبلی ممبران کی حلف برداری عمل میں آتی ہےـ صدارتی فرائض اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر انجام دیتے ہیں، ان کی غیر موجودگی کی صورت میں گورنر اجلاس کی صدارت کے لیے اسمبلی ممبران میں سے کسی ایک کو چیئرمین نامزد کرتا ہےـ اسمبلی ممبران کی سادہ اکثریت سے منتخب کردہ اسپیکر اجلاس کی تمام تر کاروائی ایک غیرجانبدار منصف کی حیثیت سے انجام دیتا ہےـ
اجلاس کا آغاز:
- اسپیکر، ممبران اسمبلی میں سے چئیرمین کا ایک پینل نامزد کرتا ہے جس میں زیادہ سے زیادہ چار ارکین ہوتے ہیں، جو اپنے نامزدگی کی اہمیت کے اعتبار سے اجلاس کی صدارت صرف اس وقت انجام دیتے ہیں کہ جب اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر غیرحاضر ہوںـ
- جب اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور سارے چئیرمین غیرحاضر ہوں تو سکریٹری اسمبلی کو آگاہ کیا جاتا ہے- ضابطے کے مطابق اسمبلی میں موجود ممبران میں سے کسی ایک ممبر کو اجلاس کی صدارت کے لیے اسمبلی منتخب کر لیتی ہےـ
- وزیراعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا نوٹس اسپیکر کو بھی دیا جا سکتا ہےـ
- قرارداد ضابطے کے مطابق ہو تو اس پر دستخط کرنے والے ممبران میں سے کوئی ایک ممبر اسے آگے پیش کرسکتا ہےـ
- قانون کے تحت راۓ شماری کا عمل قرارداد اسمبلی میں پیش ہونے کی تاریخ کے بعد کم از کم 3 دن اور زیادہ سے زیادہ 7 دن کے اندر مکمل کیا جانا ضروری ہےـ
قرارداد منظور ہونے کی صورت میں اسپیکر اس کی کاپی گورنر کو بھجواۓ گاـ
اجلاسوں کی تعداد اور کام کرنے کا طریقہ
ہر سال اسمبلی کے چار اجلاس منعقد ہوتے ہیں، ہر اجلاس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا جاتا ہےـ اسمبلی اسپیکر کو اس بات کا اختیار ہے کہ وہ کسی معاملے پر اسمبلی میں ہونے والی بحث کے نکات مکمل نہ ہونے کی صورت میں ، ناکافی بحث یا بحث قبل ازوقت مکمل ہوجانے کی وجہ سے اجلاس کو برخواست یا ایک اور نشت کی صورت میں جاری رکھنے کا حکم دےسکتا ہےـ اسمبلی کا سیکریٹری سرکاری معاملات کو درج ذیل طریقہ کار کے تحت نمٹاتا ہےـ
- نئے بل متعارف کروانا
- قراردادیں
- متعارف شدہ بل
نجی (غیرسرکاری) مسودہ قانون کو متعارف کرانے کے لیے فیصلہ بذریعہ راۓ شماری کیا جاتا ہےـ
پیش کردہ قانونی مسودۓ بل درج ذیل طریقہ کار کے تحت منظور کیے جاتے ہیں:-
- وہ مسودہ قانون جو اگلے مرحلے پر صرف منظور کرنا باقی ہوں
- وہ مسودہ قانون جس کے لیے پیش کردہ تجاویز غوروغوض کے لیے اسمبلی کی قائمہ کمیٹی یا منتخب کمیٹی کو دی جاچکی ہوںـ
- وہ مسودہ قانون جن پر قائمہ کمیٹی یا منتخب کمیٹی کی طرف سے رپورٹ جاچکی ہو
- وہ مسودہ قانون جن پر قائمہ اور منتخب کمیٹی کی طرف سے رپورٹ پیش ہونا ابھی باقی ہوـ
- وہ مسودہ قانون جو عوام کی راۓ جاننے کے لیے پیش کردیے گۓـ
نجی قراردادوں کی اہمیت جاننے کے لیے ان پر راۓ شماری کی جاتی ہے اسمبلی کے ایک اجلاس میں ایک قرارداد کے لیے ایک سے زائد مرتبہ راۓ شماری بھی کرائی جاتی ہے-
ممبران کی آگاہی کے لیے اسمبلی کی روزانہ کی کاروائیوں کا خلاصہ سکریٹری تیار کرتا ہےـ
قانون سازی
بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کو کسی مسودہ قانون کو متعارف ، منظور یا اس میں ترمیم کرنے کا مکمل اختیار ہے ، تاہم آئین میں ترامیم کے لیے پیش کیا جانے والا مسودہ قانون اس وقت گورنر کو منظوری کے لیے نہیں بھیجا جاسکتا، کہ جب تک وہ صوبائی اسمبلی کے کل ممبران کی دو تہائی اکثریت حاصل نہ کرلےـ
بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کو مالیاتی مسودہ قانون بشمول سالانہ بجٹ کو متعارف یا منظور کرنے کا آئینی اختیار بھی حاصل ہےـ
بلوچستان کی صوبائی اسمبلی کویہ اختیار ہے کہ وہ صوبائی وزیراعلی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرانے کے لیے ، ایک تحریک منظور کرکے ( صرف اس صورت میں جب کہ اسمبلی ممبران کی اکثریت تحریک عدم اعتماد کے حق میں ہو )
مسودہ قانون
کوئی بھی قانون بنانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پیش کردہ تجاویز ، مسودہ قانون کی شکل میں ہوں- مسودہ قانون کی تین اقسام ہیںـ
- سرکاری مسودہ قانون — جو وزراء کی جانب سے پیش کیا گیا ہو
- نجی ممبران کے مسودہ قانون — جو کسی ممبر کی طرف سے پیش کیا گیا ہو
- جب صوبائی اسمبلی کام نہ کر رہی ہو تو اس عرصے کے دوران گورنر احکامات جاری کرتا ہےـ بعد میں یہ صوبائی اسمبلی میں پیش کیے جاتے ہیں تب اسمبلی اسے منظور یا مسترد یا پھر اس میں توضیح کر کے گورنر کو منظوری کے لیے بھجواسکتی ہےـ
ہر مسودہ قانون تین مراحل سے گزرتا ہےـ
- ابتدائی مرحلے میں اسے رسمی کاروائی کے طور پر پڑھا جاتا ہے پھر مسودہ قانون پر عام بحث بھی کی جاسکتی ہےـ تاہم اس مرحلے پر کسی بھی ممبر کی جانب سے ترمیم کی تحریک پیش کی جاسکتی ہےـ
- دوسرے مرحلے میں مسودہ قانون کے عام اصولوں پر بحث کی جاتی ہے اگرچہ اس کے مسترد ہونے کا بھی امکان ہوتا ہےـ لیکن حکومت کی طرف سے پیش کیے جانے والے مسودہ قانون کم ہی مسترد کیے جاتے ہیں-
- تیسرے مرحلے میں مسودہ قانون کو اسپیکر کی طرف سے اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں میں سے کسی ایک کو بھی بھیجا جاسکتا ہےـ وہ وزراء ، ماہرین اور مسودہ قانون پر کی جانے والی بحث کے علاوہ ، مسودہ قانون میں ترامیم کی سفارشات بھی کرسکتا ہےـ قائمہ کمیٹی اس مسودہ قانون کو ازسر نو مرتب کرسکتی ہےـ
قائمہ کمیٹی کی مرتب کردہ رپورٹ میں اگر مسودہ قانون میں ترمیمی اصلاحات کی کوئی تجویز نہ دی گئی ہو تو اسے تیسری بار غوروغوض کے بعد منظور کرلیا جاتا ہےـ لیکن اگر قائمہ کمیٹی کی طرف سے مسودہ قانون میں ترمیم کی تجویز دی گئی ہو تو اسے منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا جاتا ہےـ
ترمیم شدہ یا غیر ترمیم شدہ مسودہ قانون کی ایوان سے منظوری کے بعد، گورنر کو بھیجا جاتا ہےـ جو 30 دن کے اندر تین ترجیحات کے تحت :
- اسے منظور کرسکتا ہے ( مسودہ قانون کو ایکٹ یا قانون میں بدل سکتا ہے )
- نامنظور کرسکتا ہے ( مسودہ قانون کو مسترد کرنے کا آئینی حق رکھتا ہے ) سواۓ اقتصادی مسودہ قانون کے-
- یا پھر مسودہ قانون کو دوبارہ غوروغوض کے لیے پارلیمینٹ کو دوبارہ واپس بھجواسکتا ہےـ
دوبارہ بھجوائے گئے مسودہ قانون پر اسمبلی ازسر نو غور کرتی ہے اور اگر یہ ترمیم شدہ یا غیرترمیم شدہ مسودہ قانون اسمبلی کی سادہ اکثریت سے دوبارہ منظور ہوجاۓ تب اسے دوبارہ گورنر کی منظوری کے لیے بھیجا جاتا ہےـ اب یہ مسودہ قانون گورنر کی جانب سے نامنظور نہیں کیا جاسکتاـ
اسمبلی تحلیل ہونے کی صورت میں زیرالتواء مسودہ قانون کا لعدم ہوجائیں گے-
بجٹ
اسمبلی میں بجٹ پیش ہونے کے بعد درج ذیل مراحل سے گذرتا ہےـ
- بجٹ پر عام بحث کی جاتی ہےـ
- صوبائی محصولاتی فنڈ سے کیے جانے والے اخراجات پر بحث
- بطور سرکاری امداد طلب کی گئی رقم پر بحث
- فوری طلب کی گئی سرکاری امداد پر راۓ شماری
بجٹ پر کی جانے والی آخری بحث کا دورانیہ قانونا چار دن سے زیادہ نہیں ہونا چاہئیے قانون یہ ضابطے کے تحت بجٹ پیش کرنے اور بجٹ پر بحث کے آغاز کا درمیانی وقفہ ایک دن سے زیادہ نہیں ہوگاـ
کمیٹیاں
عام انتخاب کے بعد اسمبلی اپنے اجلاس میں ، اس مدت کے لیے قائمہ کمیٹیوں کو منتخب کرے گی ، ہر ایک حکومتی محکمے کی نمائندگی کے لیے ایک ، ایک کمیٹی مقرر کی جائے گی ـ مثال کے طور پر کمیٹی براۓ خوراک ، کمیٹی براۓ پیداوار ، اسی طرح مالیاتی کمیٹی اور دیگر کمیٹیاں وغیرہ ـ قائمہ کمیٹیاں اپنے اپنے متعلقہ محکموں کے لیے ان تجاویز پر بھی غوروغوض کرتی ہیں جو ان محکموں کی کارکردگی میں بہتری پیدا کرسکیںـ اس کے ساتھ ہی وہ قائمہ کمیٹیوں کی انضباط کاروائی کی مکمل پیروی کرتی ہیں-
- ہر ایک قائمہ کمیٹی سات ارکان پر مشتمل ہوگی اور اس کا انتخاب اسمبلی اور اس کا متعلقہ وزارعت کا وزیر کرے گاـ
- کمیٹی کا کام اسپیکر یا اسمبلی کی طرف سے بھیجے جانے والے مسودہ قانون اور معاملات کی جانچ پڑتال کرنا اور ان پر رپورٹ مرتب کرنا اور سفارشات پیش کرنا ہے جو اسمبلی کی طرف سے دی گئی مقررہ مدت میں پیش کردی جاتی ہے-
تقویضی امور
بنیادی طور پر کمیٹیاں درج ذیل امو انجام دیتی ہیںـ
- پارلیمنٹ کو اپنے فرائض انجام دینے اور حکومت کو برقرار رکھنے میں مدد فراہم کرنا نیز حکومتی اقدامات کی جواب طلبی کرناـ
- حکومت کے فیصلوں پر کڑی نظر رکھنا نیز ان کا جائیزہ لے کر غوروفکر کے بعد انہیں عوامی ضرورتوں کے مطابق بناناـ
- وزراء کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مدد فراہم کرنا اور ان کی انتظامی صلاحیتوں اور کارکردگی کو مزید بہتر بناناـ بحیثیت ایک نگراں کے اعلی سطح پر پالیسی سازی کے عمل میں شریک ہو کر مختلف سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کی حیثیت سے شفاف اور مبنی پر انصاف پالیسیاں بنانے میں مدد فراہم کرناـ
اسمبلی کے ممبران
- ممبران کی اہلیت اور نااہلیت:
پارٹی سے انحراف کی بناء پر کسی بھی ممبر کو نااہل قراردیا جاسکتا ہے اس کی وضاحت 1977 کے دستور میں موجود ہےـ - ممبران کا استحقاق:
اسمبلی کے ممبران اپنی رائے کے اظہار کا پورا حق رکھتے ہیںـ اسمبلیوں کی کاروائوں کے دوران ممبران اپنے بیان یا نکتہ نظر کی کھل کر وضاحت کرنے کے ضمن میں کسی بھی قانونی عدالت کے روبرو جواب دہ نہیں ہوتےـ
عہدیداران اور ان کے منصبی فرائض
اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر
اسمبلی کے پہلے اجلاس کے انعقاد کے بعد ، ممبران کی حلف برداری عمل میں آتی ہےـ اس کے بعد اسمبلی ممبران میں سے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب ہوتا ہے ـ
انتخابی عمل خفیہ راۓ دہی کے ذریعے ہوتا ہےـ ان عہدوں کے لیے نامزد کردہ جن ممبران کے حق میں ایوان کے ممبران کی اکثریت ووٹ ڈالتی ہے وہ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر منتخب ہو جاتے ہیںـ
اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں کی مدت اسمبلی کی مدت تک ہوتی ہےـ اچانک اسمبلی تحلیل ہوجانے کی صورت میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکراپنے عہدوں پر برقرار رہتے ہیں جب تک کہ انہیں مقررہ طریقہ کار کے مطابق نہ ہٹایا جاۓـ
- استعفی یا عہدے سے ہٹانا:
اسپیکر اپنا استعفی گورنر کو پیش کر سکتا ہے اور ڈپٹی اسپیکر ، اسپیکر کو استعفی دے سکتا ہےـ اسمبلی کے ممبران کی سادہ اکثریت کے ذریعے بھی اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر کو ہٹایا جاسکتا ہےـ اسپیکر یا ڈپٹی اسپیکر اسمبلی کے اس اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتا جس میں اس کے ہٹانے سے متعلق قرارداد پیش کی جانی ہوـ - فرائض منصبی :
ہر اجلاس کے آغاز میں اسپیکر ، ممبران میں سے بلحاظ فوقیت ایک چار رکنی چئیرمین کے پینل کو نامزد کرتاہے جو اسمبلی کے اس اجلاس کی نشستوں میں صدارتی فرائض انجام دیتے ہیں جس کے لیے انھیں نامزد کیا گیاـ - صوبائی اسمبلی میں اسپیکر مرکزی حیثیت رکھتا ہے، اگرچہ اس کی وابستگی کسی ایک سیاسی جماعت سے ہوتی ہے تاہم اسپیکر اسمبلی کی حیثیت سے اسے اپنے فرائض کی انجام دہی انصاف اور دیانت داری کے ساتھ کرنا ہوتی ہےـ نیزایک غیر جانبدار منصف کی حیثیت سے یہ سمجھا جاتا ہی کہ وہ اجلاس کی کاروائی کے دوران جمہوری طرز عمل اور جمہوری روایات کی پاسداری کرے گاـ اسپیکر کا عہدہ اس بات کا متقاضی ہے کہ وہ حکومتی وزراء اور حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے وزراء / ممبران سے یکسا برتاؤ کرےـ
- اجلاس کی کاروائی کے دوران اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے علاوہ بلاشبہ اسپیکر کی کچھ اور بھی ذمہ داریاں ہیںـ وہ آئین کے اصول و ضوابط کے تحت بہت سے انتظامی اور مالی امور بھی انجام دیتا ہےـ مختصرا اسپیکر اس بات کا پابند ہے کہ:
- اسمبلی کے اجلاس کو اپنی نگرانی میں مقررہ وقت پر شروع کرواۓـ
- اجلاس کو بلانے کا حکم دے اور اسمبلی میں اجلاس کی کاروائی کو کنٹرول کرے-
- کسی بھی ممبر کو معطل یا باہر کرنے کا مجاز ہے-
- نظم و ضبط اور شائستگی کو برقرار رکھے ، فیصلوں پر عمل درآمد کرواۓ-
- اسمبلی میں موجود کسی اجنبی مرد / عورت کو فوری طور پر گیلری سے باہر جانے کا حکم دے-
- اسمبلی کے اجلاس کی کاروائی کو خفیہ رکھے-
- اجلاس کی کاروائی کے دوران ہونے والی جملے بازی کو ختم کراۓ-
- نوٹس اور تحاریک میں ترمیم کرے-
اسپیکر کی غیر موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر فرائض انجام دیتا ہےـ اگر ڈپٹی اسپیکر بھی غیر حاضر ہو تو اجلاس کی کاروائی نامزد کردہ چئیرمین انجام دیتا ہے اور ان تینوں کے موجود نہ ہونے کی صورت میں اسمبلی میں موجود ممبران اپنے درمیان سے کسی ایک کو اجلاس کی صدارت کے لیے منتخب کر سکتے ہیںـ
وزیراعلی
اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے انتخاب کے بعد اسمبلی اس وقت تک کام نہیں کرسکتی جب تک کہ وزیراعلی کا انتخاب عمل میں نہ آجاۓ ، صدر کی طرف سے بتاۓ گۓ مخصوص دن گورنر ایک خصوصی اجلاس بلاتا ہی جس میں وزیراعلی منتخب کرلیا جاتا ہےـ منتخب وزیراعلی 60 دن کے اندر اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرتا ہےـ
- اسمبلی کے ممبران چاہیں تو اپنی سادہ اکثریت کے ذریعے وزیراعلی کو ہٹانے کے لیے ایک قرارداد منظور کرکے وزیراعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر سکتے ہیںـ اس مقصد کو بروۓ کار لانے کے لیے سب سے پہلے وہ اسمبلی کے سکریٹری کو نوٹس دیتے ہیںـ اس ضمن میں انہیں اسمبلی کے کل 20 فی صد ممبران کی حمایت درکار ہوتی ہےـ اس قرارداد کے منظور ہونے کے بعد وزیراعلی اپنے منصبی فرائض انجام نہیں دے سکتا ، وزیراعلی اپنا تحریری استعفی گورنر کو پیش کر سکتا ہےـ
- وزراء کی کابینہ کا سربراہ وزیراعلی ہوتا ہے اس کی تشکیل کی بنیادی مقصد گورنر کو اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں مدد اور مشاورت فراہم کرنا ہےـ صوبے کا گورنر ، وزیراعلی کی ہدایت کے مطابق صوبائی وزراء کی تقرری کرتا ہےـ جو اسمبلی ممبران میں سے منتخب کیے جاتے ہیںـ وزیراعلی کی سفارش پر گورنر کسی بھی وزیر کو اس کے سرکاری عہدے سے ہٹاسکتا ہے-
قائد حزب اختلاف
جمہوری عمل میں اسمبلی کے اندر حزب اختلاف کا کردار نہایت اہم ہےـ حزب اختلاف کے ممبران ، حکمران جماعت سے اختلاف راۓ کے باوجود اس بات کے پابند ہیں کہ وہ آئین کے تحت کیے جانے والے حکومتی اقدامات کی توثیق / حمایت کریںـ اسمبلی میں حزب اختلاف کے نقطہء نظر کی وضاحت اور اسے مرکزی سطح پیش کرنے والا منتخب ممبر اس ایوان کا قائد حزب اختلاف کہلاتا ہےـ
اسمبلی کی انضباط کاروائی میں قائد حزب اختلاف کے انتخاب اور اختیارات و فرائض کے کسی طے شدہ طریقہ کار کی وضاحت موجود نہیںـ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ حزب اختلاف کے لیے درج ذیل فرائض منصبی تسلیم کرلیے گۓ اور اب یہ اسمبلی کی کاروائی کا لازمی حصہ بن چکے ہیںـ
اسمبلی میں حزب اختلاف کے فرائض منصبی درج ذیل ہیں :
- صوبائی اسمبلی میں کی جانے والی عام بحث میں بھر پور حصہ لیناـ
- عام شہریوں کے حقوق سے متصادم حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرناـ
- حقائق اور دلائل پیش کر کے عوام کے حق میں بہتر نظر نہ آنے والی حکومت کی پالیسیوں میں ردّوبدل کرواناـ
- حکومت کے غلط اقدامات کو روکنے کے لیے اسمبلی میں صداۓ احتجاج بلند کرکے عوام کے لیے ایک پلیٹ فارم مہیا کرناـ
- راۓ عامہ کے مفاد میں متبادل لائحہ عمل اور پالیسیاں تجویز کرنا-
- قانون سازی کے وقت دباؤ ڈال کر قوانین میں ترامیم کروانا-
- حزب اختلاف کا سب سے اہم کام حکومت کی پالیسیوں پر نظر رکھنا اور جوابی بحث کے ذریعے اہم پہلوؤں کو اجاگر کرکے پالیسیوں میں بروقت ردّوبدل اور ترامیم کروانا ہےـ حزب اختلاف کی جانب سے پیش کردہ متضاد نکات پر بحث سے منتخب حکومتی پارلیمنٹ کو سوچ کے نئے اور فکر انگیز زاویے ملتے ہیںـ

