مشرکہ قرارداد نمبر1منجانب: متحرمہ روبینہ عرفان صاحبہ،وزیر برائے قانون وپارلیمانی امور،اورمیر حمل کلمتی وزیربرائے ماہی گیری۔
ہر گاہ کہ دولت مشترکہ میں پاکستان کی رکنیت کی بحالی ایک پر مسرت خبر کیساتھ انتہائی مستحسن اقدام بھی ہے لہذا یہ ایوان دولت مشترکہ کے پارلیمانی ایسوسی ایشن کے آئینی تقاضوں اور قواعد و ضوابط نیز رکنیت کے لیے مطلوبہ فیس کی ادائیگی کا پابند رہتے ہوئے مذکورہ تنظیم کی ایگز یکٹیو کمیٹی سے متفقہ طور پر دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن میں اس ایوان کی رکینت کی بحالی کا مطالبہ کرتا ہے۔ قرارداد نمبر2منجانب: میر محمد صادق عمرانی، صوبائی وزیر۔
یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتاہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ قدرتی گیس بنیادی طور پر بلوچستان کی پیداوار ہے جس سے پورے ملک کی صنعتوں سمیت گھر یلو ضروریات کے ساتھ ساتھ پیٹرول مہنگاہ ہونے کی صورت میں سی این جی اسٹیشن کے زریعے ایک بہت بڑی ضرورت کو سستے داموں سے پوری کر ر ہی ہے لیکن حسب معمول گیس کی سپلائی پورے بلوچستان میں نہ ہونے کے برابر ہے اور یہی صورت حال ملک کے رقبے کے کے لحاظ اسے آدھے ملک کے حصے میں سی این جی اسیٹشن صرف چار ہیں بلوچستان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا تسلسل ہے لہذا عوام کی ضرورت کے پیش نظر فوری طور پر سی این جی اسٹیشنوں کے تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ عوام اس سستے ایندھن کی سہولیات سے مستفید ہو سکیں۔ قرارداد نمبر 3 منجانب: میر محمد صادق عمرانی، و میر محمد امیں عمرانی صوبائی وزراء
یہ ایوان صوبائی حکومت سے سفارش کرتاہے کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ اوچ پاور پلانٹ واقع ڈیرہ مراد جمالی جس کو گیس کی سپلائی بھی ڈیرہ مراد جمالی سے ہو رہی ہے۔لیکن اس کے باوجود علاقے کے عوام اوچ پاور پلانٹ کے بجلی سے محروم ہیں۔لہذا وفاقی حکومت اوچ پاور پلانٹ سے ڈیرہ مراد جمالی اور گردونواح کے علاقوں کو بجلی کی ترسیل یقینی بنائے۔نیز چونکہ بجلی کے مسئلہ سے مجموعی طور پر سارا صوبہ متاثر ہے۔لہذا صوبہ کے بہتر مفاد میں صوبہ کے تمام علاوقوں کو اوچ پاور پلانٹ کے ساتھ ایران سے 1200میگاواٹ معاہدہ کے تحت ملنے والی بجلی سارے صوبے کو مستفید کرانے کا اہتمام کیا جائے۔مذکورہ بالاقرارداد سردادثنا ء اللہ زہری ،محمد عاصم کرد گیلو اور جناب اسداللہ بلوچ کے ترامیم کے ساتھ منظور ہوئی۔
قراد اد نمبر09 موخہ۔ 05/11/2008 منجانب: جناب عین اللہ شمس صاحب وزیر صحت
یہ ایوان اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین 1973 کے آرٹیکل نمبر 144 کے ضمن (1) کے تحت مجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کو اختیار دیتا ہے کہ وہ صوبہ کے عوام کے مفاد کے پیش نظر عوم الناس میں آیوڈین کی کمی کو دور کرنےنیز عوام الناس میں آیوڈین کے متعلق پائ جانے والی منفی تاثرات کے خاتمہ کے بابت ضروری قانون سازی کرے۔ کیونکہ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ آیوڈین انسانی جسم کے لئے نہایت ضروری ہے بلکہ انسانی اور حیوانی زندگی صحت کے لئے جزو لائیفینک ہے۔ آیوڈین کی کمی نہایت ہی خطرناک بیماری گوائٹر (گہٹر) پیدا کرتی ہے۔ جس سے آہستہ آہستہ انسانی بدب کام کے قابل نہیں رہتا۔ اس مشکل سے نمٹنے کے لئے 1994 میں پورے پاکستان میں غذائی نمک میں آیوڈین شامل کرنے اورعوام الناس کو اپنے غذاوں میں آیوڈین شامل کرنے کا رجحان یقینی بنانے کے لئے ایک پروگرام ترتیب دیا گیا جس کے تحت، بلوچستان صوبائ اسملبی نے خالص خوراک آرڈیننس 1960 میں کئی تبدیلیاں کیں۔اگرچہ یہ ایکٹ 13 سال قبل بلوچستان اور صوبہ سرحد اسمبلی نے منظور کیا تھا۔ لیکن بوجوہ اس پر عمل نہ ھوسکا۔۔چونکہ اب تمام ملک میں یکساں طور پر اس ایکٹ کو قانونی شکل دینے کے لئے وزارات صحت پاکستان نے صوبوں کے نمک پیداکرنے والے اداروں کو نمک کی تجارت کرنے والی کمپنیوں سے مشاورت کے بعد قانونی دستاویز تیار کی ہے جس کے لئے صوبائی اسملبی سے قراردادکے ذریعے منظوری کی ضرورت ہے، تاکہ صوبہ کے عوام کے مفاد کے پیش نظر آیوڈین کی کمی کع ختم کرنے کے ساتھ عوام لناس میں مففی تاثر کا خاتمہ ممکن ھو سکے۔

