اٹھارویں ترمیم کی منظوری کے بعد بھی بلوچستان کابینہ پر اثر نہیں پڑے گا
عمل درآمد آئندہ عام انتخابات کے انعقاد کے بعد ہوگا فی الوقت یہ ترمیم دونوں ایوانوں سے منظور بھی ہوجاتی ہیں تو اس کا بلوچستان کابینہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ اٹھارویں آئینی ترمیم مسودے کی تیاری پر تمام سیاسی جماعتیں مبارکباد کی مستحق ہیں خصوصی بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے ایسی خبریں آرہی ہیں کہ اٹھارویں آینی ترمیم کئ منظوری کے بعد موجودہ بلوچستان کابینہ کے ارکان کی تعداد بھی پندرہ ہوجائیگی جو کہ درست نہیں ہے انہوں نے کہا کہ اس مجوزہ ترمیم کی دونوں ایوان سے منظوری کے بعد اطلاق آئندہ انتخابات کے بعد بننے والی حکومتوں اور ان کی کابینہ پر ہوگا انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم میں یہ شق بھی شامل کی گئی ہے کہ گورنر کے بیرون ملک جانے کے بعد اسمبلی کے اسپیکر ہی قائمقام گورنر ہوں گے اور اسپیکر کی حلف برداری کے دوران ہی ان سے قائمقام گورنر کے عہدے کا حلف بھی لیا جائے گا البتہ اگر اسپیکر بھی ملک میں موجود نہ ہوں گے تو پھر صدر مملکت کو یہ اختیار ہوگا کہ وہ کسی کو بھی قائمقام گورنر بنانے کے احکامات جاری کرسکتے ہیں اسپیکر بلوچستان اسمبلی محمد اسلم بھوتانی نے بتایا کہ اٹھارویں مجوزہ آئنی ترمیم میں نگران سیٹ اپ کے لئے بھی شقیں شامل کی گئیں ہیں جس کے مطابق نگران وزیر اعلیٰ کا کوئی رشتہ دار بیٹا، بیٹی اور اگر خاتون ہیں تو شوہر اور اگر مرد ہے تو اس کی بیوی انتخابات میں حصہ نہیں لیں سکیں گے انہوں نے کہا کہ اٹھارویں ترمیم کی منظوری سے گزشتہ ادوار میں آئین کے اندر کی جانے والی پیوندکاریوں کا خاتمہ ہوگا اور آئین اپنی اصل شکل میں بحال ہوگا اور یہی تمام جمہوری سوچ رکھنے والی سیاسی جماعتوں کا دیرینہ مطالبہ تھا انہوں نے کہا کہ مجوزہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے مسودے کی تیاری پر تمام سیاسی جمہوری جماعتیں مبارکباد کی مستحق ہیں جنہوں نے دن رات ایک کرکے عوامی امنگوں کی حامل اس ترمیم کے مسودے کو تیار کیا۔

